اردو زبان کے گم گشتہ الفاظ-۳: قارئین کرام کو  ایک مرتبہ پھر خوش آمدید۔ آج کی تحریر پچھلی اقساط کا ہی تسلسل ہے جس میں ان الفاظ کو شامل کیا جائے گا جن کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ہمارے رہن سہن سے ہے۔  تو آئیے ہم ان بھولے بسرے الفاظ کو یاد کرتے ہیں۔

۱۹وین صدی کے اک گاوں کے مکان کی تاق -تصویر ریحا ن اسد

طاق

نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاق بت خانہ
جہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ
جلا کر شمع پروانے کو ساری عمر روتی ہے
اور اپنی جان دے کر چین سے سوتا ہے پروانہ
حوالہ: شاعر : بیدم شاہ وارثی

۱۸ویں صدی کی تااریخی مسجد کے دروازے میں اک تاق کی تصویر، پیلی بھیت، تصویر ریحا ن اسد

ایک زمانہ تھا جب ہر گھر میں کمروں کی دیوار میں طاق کا وجود  عام  تھا۔ یہ ایک خوبصورت تعمیراتی شاہکار تھا جو عموماً معمولی نوعیت کی اشیاء رکھنے کے کام آتا تھا۔ طاق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے بے شمار معنی موجود ہیں لیکن  تعمیراتی فن کے حوالے سے اس کے معنی ہیں  ’’دیوار کے آثار میں خانہ داری کی معمولی چیزیں رکھنے کو محرب دار یا چوکور جگہ‘‘.  محراب رومی طرز ِ تعمیر تھی  جو سن 1300 عیسوی میں ہندوستان پہنچی اور پھر ہر اہم عمارت کا جزو بنی۔
حوالہ

۱۹۱۰ کے مکان میں اک تاق کی تصویر، ریحا ن اسد

For video stories subscribe to our YouTube

مشہور خطیب اور سماجی کارکن سوہےل ہاشمی صاحب کی گفتگو

 اردو ادب میں لفظ طاق کا بہت استعمال ہوا خاص طور پر میر تقی میر اور مرزا  غالب  کے دیوان میں لفظ طاق سے  وابستہ ایک کثیر تعداد  میں اشعار موجود ہیں جس میں آئینہ ِ طاق  کو  بہت  اہمیت حاصل ہے۔ گمان ہے کہ  اٹھارویں اور انیسویں صدی میں طاق میں آئینہ  رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح کتابوں کا طاق میں رکھنا اور پھر مسلمانوں کا  طاق میں قران کو رکھنا بھی اردو ادب میں مذکور ہے۔ لیکن طاق کا عام استعمال دراصل دیا یا چراغ رکھنے کے لیے ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ چراغ کو طاق میں رکھ کر جلانا  زیادہ  محفوظ عمل تھا  کیونکہ اس طرح  گھر میں  آگ بھڑک اٹھنے کا خطرا  نہیں رہتا تھا۔  آج کل یہ منظر ہمیں مزاروں اور درگاہوں میں دکھائی دیتا ہے جہاں عرس کے مواقع پر  دیوار کے طاق میں چراغوں کو روشن کیا جاتا ہے۔

۱۹ویں صدی کے اک گاوں کے مکان کی تاخ -تصویر ریحا ن اسد

بر ِ صغیر میں انگریز کے آنے سے گھروں کی تعمیر میں کارنس کے  رواج  کو فروغ ملا جس کی وجہ سے طاق کا استعمال کم ہوا۔ پھر  الماری کے عام ہو جانے سے کارنس  کی تعمیر بھی منقطع ہو گئی۔ یوں طاق اور کارنس جیسے شاہکار فن پارے ہمارے رہن  سہن سے رخصت ہو گئے۔  اب لفظ طاق اشعار،  محاورات  یا ضرب المثل میں ہی  استعمال ہوتا ہے لیکن عہد حاضر  کے نوجوان کو اس کے اصل معنی شاید کم ہی معلوم ہوں گے۔ جیسے طاق ِ نسیاں ہونا،  بالائے طاق رکھنا،  ایمان طاق پر رکھنا،  وغیرہ۔  بالائے طاق رکھنا  ایک عام  محاورہ ہے جس کے معنی ہیں  علیحدہ کرنا یا  نظر انداز کرنا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شے ضروری نہ سمجھی جاتی تھی اسے طاق میں رکھا دیا جاتا تھا۔ اسی سے طاق ِ نسیاں لفظ وجود میں آیا یعنی کسی چیز کو بھلا دینا کیونکہ عام استعمال کی اشیا میز  یا تپائی پر رکھی جاتی تھیں جبکہ نہ استعمال  یا کم استعمال ہونے والی  چیز کو  طاق میں رکھ کر بھلا دیا جاتا تھا۔  جیسے غالب نے کہا-
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں

خانخاۃ نیا اژیۃ بریلی، تصویر ریحا ن اسد

The author is a medical doctor & currently working as Assistant Professor (Microbiology). As a literary enthusiast, he is documenting the common “Urdu” words used in his childhood & now on the fading end in changing days especially in Pakistan

+ posts
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)