حضرت زید بن علی ( زید الشہید)

 آج ہمارا موضوع تاریخ اسلام کی اہم  ترین شخصیات میں سے ایک ،خانوادہ نبوت کے چشم و چراغ, حضرت زیدؒ بن امام علی زین العابدین ؓ  ہیں ، آپ  امام حسین ع کے پوتے اور حضرت زین العابدین کے بیٹے تھے  ،اہل اسلام کے تمام مسالک و مذاہب اپ کی عظمت و جلالت شان کی قائل ہیں اور اپ کو اپنا محترم و مخدوم گردانتے ہیں

نسب

 آپکا نسب زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ع ہے ! 

جناب زید بن علی کا شمار تابعین میں کیا جاتا ہے ، آپ نہایت صالح ،متقی اور عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے صاحب علم وفضل اور ذی وجاہت شخص تھے ،آپ ان تمام علمی و روحانی اوصاف سے مزین تھے جو اہل بیت کا طرہ امتیاز ہے ۔آپ کی ذات گرامی قرآن و حدیث و فقاہت دین میں امامت کے مرتبہ پر فائز تھی،  آپ نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا تھا اور عمر کا ایک بڑا حصہ قرآن مجید کی تلاوت اور اس میں غور وفکر میں بسر کیا جس کی وجہ سے اپ کو حلیف القرآن کہا جاتا تھا اور آپ ایک مخصوص قرآت قرآنی کے بھی ماہرین میں سے تھے 

ولادت

آپ کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں اقوال مخلتف ہیں ، جن میں سے ہمارے نزدیک دو سنیں قابلِ غور ہیں ایک سنہ 75ھ اور دوسری 80 ھ ، اسی طرح سنہ شہادت میں بھی مختلف اقوال ہیں ایک روایت کے مطابق آپکی شہادت ٢٥ محرم الحرام کو ہوئی ، التحف شرح الزلف مین المویدی نے اسی کو ترجیح دی ہے البتہ بعض کے نزدیک اپ کی شہادت 2 صفر 122 ھ میں ہوئی لہٰذا اپ کی عمر47 یا 42 برس کی ہوتی ہے
آپکی والدہ  معظمہ ام ولد تھیں جن کا اسم گرامی جیدہ السندی تھا  تھا۔جنھیں امیر مختارؒ نے حضرت زین العابدین کی خدمت اقدس میں پیش کیا تھا ۔ انکا تعلق سندھ کی سر زمین سے تھا ۔ 

تعلیم

 آپ نے بیشتر علوم اپنے والد علی بن الحسین جناب زین العابدین سے اور اپنے برادر بزرگ محمد بن علی الباقر  سے حاصل کئے ،جب اپ کے والد ماجد امام زین العابدین کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر 18 برس کی تھی لہذا آپ اپنے بھائی جناب محمد باقر کی سرپرستی میں ا گئے –

علوم الحدیث

آپ نے اصحاب رسول (صلى الله عليه وسلم) کو دیکھا اور ان سے احادیث روایت کیں۔ چنانچہ آپ نے عامر بن واثلة أبو الطفيل ، ابان بن عثمان ، عبیداللہ ابن ابی رافع اور چندے محمد بن اسامہ بن زید  اور جابر بن عبداللہ انصاری رض سے بھی استفادہ کیا۔ان تمام حضرات کی روایات مختلف کتب احادیث میں موجود ہیں ۔

اسی طرح سے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب زید نے عروہ بن زبیر بن عوام  کا بھی تلمذ اختیار کیا ہے۔ بعض حضرات نے جناب زید اور جناب محمد باقر کے درمیان اختلاف کا سبب زید کی واصل بن عطا  کی شاگردی اور امام کے لئے قیام کی شرط کا لازمی ہونا ہے۔مگر یہ روایت پائہ ثبوت کو نہین پہنچتیں کہ اول تو جناب زید عمر میں واصل سے بڑے تھے اور دوم یہ کہ آپ کا اتنا طویل قیام بھی مدینہ سے باہر ثابت نہیں کہ جس پر تلمذ کا امکان موجود ہو سب سے اہم یہ کہ خود معتزلی منابع میں جناب زید کا شمار واصل کے شاگردوں میں نہیں کیا گیا ہے – بلا شبہ اپ سے واصل کا مکالمہ اور خلافت کے موضوع پر مرسلت کے حوالہ ملتے ہیں-

جناب زید ایسے افراد سے جو شیخین پر تبرا کرتے تھے، بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔آپ لوگوں کو کتاب و سنت کی پیروی اور جابر حکمرانوں سے جہاد اور محروم افراد کی حمایت کی دعوت دیتے تھے- آپ قرآن کے جید عالم تھے اور اپ کے نظام فکر میں قرآن کو مرکزیت حاصل تھی ، اپ نے موضوعاتی اعتبار سے ایات کی ترتیب کی اور انکی تفہیم و تعبیر مین وقت صرف کیا ، قران میں موجود الفاظ کی تحقیق و تفتیش میں بڑے محتاط تھے اور نہایت جانفشانی سے آپ نے تفسیری نوٹس بھی رقم کئے تھے۔ سنت کو پرکھنے کا بھی معیار اپ کے نزدیک قران مجید ہے ، جو روایات تصریحات قرآنی کے خلاف ہوتیں ، اپ ان کو قبول نہ کرتے اور رد کرنےکے قائل تھے ، مسند میں اس نوع کی روایت موجود ہے 

زیدیہ

آپ کے متبعین کی ایک بڑی تعداد یمن میں پائی جاتی ہیں جنہیں زیدیہ کہتے ہیں ، ان کے اصول فقہ حنفی فقہ سے مماثل ہیں اور یہ اختلاف امام زین العابدین کی وفات کے بعد ظاہر ہوا۔ ایک طبقہ نے حضرت محمد باقر کو امام قبول کر لیا اور دوسرے گروہ نے جو مسلح جہاد کا قائل تھا، وہ  جناب زید بن علی کی قیادت کے قائل ہو گئے اور زیدیہ مشہور ہو گئے اس بنیاد پر وہ شیعہ جو قیام مسلحانہ کا عقیدہ رکھتے تھے وہ زید بن علی کی فقہ و اصول کی پیروی کرتے ہیں ا ! زیدیہ صحابہ کرام پر تبراء کو جائز نہیں سمجھتے،زیدیہ میں بحیثیت تقیہ کا تصور موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ خلفائے راشدین کا نام بھی احترام سے لیتے ہیں ۔ سب و شتم کے بھی سخت مخالف ہیں۔ وضو میں یہ لوگ اہل سنت حضرات کی طرح پاؤں دھونے کے قائل ہیں۔،اور سجدگاہ بھی نہیں رکھتے۔ اہل سنت حضرات کی طرح سلام پھیرتے ہیں۔ نکاح متعہ کو حرام سمجھتے ہیں۔ امام مہدی سے متعلق زیدی عقیدہ یہی ہے کہ ان کی پیدائش نہیں ہوئی بلکہ قرب قیامت ان کی پیدائش ہوگی اور ان کی حکومت ھوگی۔آپ کی وفات کے بعد ایک مستقل فرقہ وجود میں آگیا جو زیدیہ کہلایا اور اب تک یمن میں موجود ہے-

تلامذہ

آپ کے تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے جس میں 38 افراد کے نام تو حافظ المزی نے تہذیب الکمال میں نقل کئے ہیں مثلاً ابو خالد الواسطی، شعبہ ابن الحجاج، عثمان بن عمیر ، آپ کے بیٹے حسین ابن زید اور یحییٰ بن زید، جعفر الصادق ، ابو الجارود زیاد ، اسحاق بن سالم ، آدم بن عبداللہ ابراہیم بن حسن مثنی، حسن مثلث ، حسین بن علی بن الحسین الشہید ،عبیداللّہ بن محمّد بن عمر بن علی بن ابی طالب وغیرہم _اسی طرح جب آپ کوفہ ائے تو فقہائے کوفہ جیسے عبد الرحمن بن ابی لیلی، ابو حنیفہ، و سفیان ثوری، سلیمان الاعمش وغیرہ کے ساتھ علمی مذاکرات میں شریک رہے تھے اور ان سب نے آپ سے علمی استفادہ کیا -دیکھیں تہذیب الکمال للحافظ المزی ، سیر اعلام النبلاء

اہل سنت کے منابع میں ترمزی، نساٰٰٗئ، ابو داود، ابن ماجہ، اور ابن ابن حنبل جیسے افراد نے جناب زید سے حدیثیں نقل کی ہیں

تصنیفات

کتاب (المجموع فی الفقہ)، ابو خالد  عمر واسطی کی زید سے روایت کے مطابق، زید بن علی سے منسوب ہے۔ یہ کتاب اپ سے منسوب کتابوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے اور اس کے متعدد شرحیں بھی لکھی گئی ہیں۔ اسی طرح مناسک حج وعمرہ بھی آپ سے منسوب کی جاتی ہے- آپ کی طرف منسوب کئی اور کتب بھی ہیں: تفسیر غریب القرآن المجید، اخبار زید بن علی

ہشام کے خلاف جدو جہد

اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کا دور حکومت 105 ہجری سے 125 ہجری تک 20 سال قائم رہا ۔
ہشام نے جب خالد القسری کو عراق کی گورنری سے معزول کر کے اس کے خلاف تحقیقات کی گواہی کے لئے جناب زید کو مدینے سے کوفہ بلایا، کوفہ کے لوگوں کو ایک عرصہ کے بعد خاندان نبوت کا کوئی فرد نظر ایا اور لوگ ان کے گرد جمع ہونے لگے اور ان لوگوں نے یقین دلایا کہ ایک لاکھ ادمی آپ کے ساتھ ہیں اور ہندرہ ہزار نے بیعت بھی کر لی ، اتنی بڑی جماعت کے اقرار اطاعت ووفاداری نے جناب زید ع  کے اندر کامیابی کی توقعات پیدا کردیں ، اس کے علاوہ مدائن ، بصرہ ، واسط ، موصل، رے جر جان کے اشخاص بھی اپ حمایت کے خبریں مل رہی تھیں 
آپ نے کوفہ و بصرہ کا بھی دورہ کیا ، لوگوں میں آپ کے لئے احترام و محبت کے جذبات تھے، ہزاروں اپ سے بیعت ہوئے   ۔ 

زید بن علیؒ نے فرمایا’’ ۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ﷲکی کتاب اور رسول ﷲؐ (صلى الله عليه وسلم کی سنت کو جب مَیں نے درست کرلیاتو اس کے بعد مجھے قطعاً پروا نہیں ہے کہ میرے لئے آگ جلائی جائے اور مجھے اس میں جھونک دیا جائے‘‘ والی عراق یوسف بن عمر کو جب ان تیاریوں کا علم ہواتو اس نے حضرت زیدؒ اور آپ کے ساتھیوں پر کڑی نگرانی رکھنے کے لئے اپنے جاسوس ہر سو پھیلا دیئے۔ جناب زیدؒ کے طرف داربھانپ گئے کہ ان کی جاسوسی کی جارہی ہے ۔وہ ڈر گئے اور حسب روایت اہلِ کوفہ ان کا ساتھ چھوڑنے اور بیعت توڑنے کی حیلہ سازی کرنے لگے

اہلِ کوفہ کی بڑی تعداد کے الگ ہونے کے بعد حضرت زیدؒ کے لئے مقررہ دن سے پہلے ہی خروج ضروری ہوگیا۔ انہوں نے اپنے باقی طرف داروں جو کہ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے سے مل کر بدھ یکم صفر 122 ہجری کی شب خروج کے لئے مقرر کی ۔یوسف بن عمر کو علم ہوا تو اس نے منادی کرادی کہ تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں جمع ہوجائیں جو مسجد سے باہر پایا گیا،مارا جائے گا۔ جناب زیدؒ کے طرف داروں کی بڑی تعداد( جو حسب روایت میدان چھوڑنے کے بہانہ کی تاک میں تھے ) جامع مسجد میں محصور کر لی گئی ۔دوسری جانب صبح کے وقت جناب زیدؒ کے ہمراہ کل دو سو اٹھارہ آدمی تھے جبکہ ان کے ہاتھوں پر جن لوگوں نے بیعت کی تھی انکی تعداد اسی ہزار سے زائد تھی ۔

یہ منظر دیکھ کر جناب زیدؒ نے پوچھا ،’’خدا کی شان! اور لوگ کہاں ہیں؟ ‘‘ کہا گیا کہ وہ مسجد اعظم میں محصور ہیں ۔ جناب زیدؒ نے کہا کہ جن لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے لئے یہ کوئی معقول عذر نہیں ہے ۔جناب زیدؒ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے تھے ، ’’اے کوفہ والو معلوم ہوتا ہے کہ داؤد بن علی تم سے بہت اچھی طرح واقف تھے ، انہوں نے مجھے پہلے ہی آگاہ کردیا تھاکہ تم لوگ میرا ساتھ چھوڑ دو گے، مگر مَیں نے ان کی بات نہ سنی‘‘ ایک طرف 218 اور دوسری طرف ہزاروں۔ کربلا کی تاریخ ایک بار پھر دہرائی گئی

حاکم کوفہ یوسف ثقفی کے حکم سے جامع مسجد کوفہ مین کرفیو نافذ کر دیا گیا اور بہت سے لوگوں کو مسجد کوفہ میں مقید کر لیا گیا ، جس وقت وہ آپ کے مقابلہ میں لشکر لایا تو اکثریت امام کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اور صرف 218 افراد جناب زید کے ساتھ نظر ائے  ، جناب زید نے فرمایا رفضونا الیوم ، اس دن سے رافضی لفظ وجود میں آیا-

شہادت

آپ 2 صفر یا ٢٥ محرم الحرام 122 ھ کو اسی جنگ میں زخم تیر سے شہید ہوئے ، ایک تیر اپ کی پیشانی میں پیوست ہو گیا تھا ، تیر نکالے جانے پر اپ کی روح پرواز کر گئی ، شہادت کے بعد آپ کے ساتھیوں نے آپ کی میت مبارک کو دشمن سے چھپانے کے لئے بڑی مشکل سے نہر کاپانی روک کر اس کے بطن میں قبر کھودی اور ان ہی کپڑوں میں جو وہ پہنے ہوئے تھے ، دفن کرکے اوپر نہر کاپانی جاری کر دیا،لیکن آپ ہی کے ایک ساتھی کی مخبری پرمیت ڈھونڈ لی گئی۔ سر کو الگ کرکے بدن کو سولی پر لٹکا دیا گیااور سر کو ہشام کے پاس بھیج دیا گیا جسے اس کے حکم پر دمشق کے دروازہ پر نصب کرادیاگیا۔پھر ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ منتقل کئے جانے کے دوران ﺍﺭﺩﻥ ﻣﯿﮟ شہر الکرک کے قریب ایک گاؤں ” ﺭﺑﮧ ” میں دفن کیا گیا۔  ہشام کی زندگی بھر جناب زیدؒ کی میت سولی پر لٹکی رہی ، ہشام کے مرنے کے بعد اسکے جانشین ولید نے اسے اتروا کر جلا دیا خاک کو دریائے فرات میں بہا دیا گیا

ابن تیمیہ منہاج السنہ میں لکھتے ہیں کہ جب اپ کے جسم مبارک کو مصلوب کیا گیا تو رات کے وقت کوفہ کے لوگ وہاں زیارت کو اتے اور دعائیں کرتےْ۔  ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﮨﺠﺮ ﻣﮑﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧحضرت جریر بن حازم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت زید کے جسم سے پشت مبارک لگائے فرما رہے ہیں: اے لوگو! میرے فرزند کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو ؟

موضع ربہ ، الکرک ، اردن کا وہ مقام جھاں حضرت زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ع کا سر اقدس دفن ہے۔
Picture taken by Agha Shabbir Abbas 2017

اولاد

زید ابن علی نے سیدہ ریطہ دختر سیدنا ابو ہاشم عبداللہ فرزند حضرت محمد حنیفہ بن حضرت علی سے عقد فرمایا- آپ کے چار بیٹے تھے مگر نسل پاک تین فرزندان سے جاری ہے

1- یحییٰ بن زید مقتول جوزجانی ، یہ لاولد تھے

2- حسین بن زید (ذی الدمعہ) م 135 ھ ان کی اولاد علی، حسین اور یحییٰ سے تعداد کتیر میں باقی ہے ، ہند و پاک میں سادات سامانہ ، دہلی کیتھل ، سنبھل ،کڑا ، اکبر آباد نہٹور(بجنور ) ، پہانی ،سانڈی ، باون ( ضلع ہردوئی ) لکھیم پور محمدی(یو پی) اور بالخصوص سادات رسولدار اسی دودمان عالی سے ہیں

3- عیسیٰ بن زید (موتم الاشبال) کا سلسلہ چار فرزندان احمد، محمد زید ،حسین سے جاری ہے ہندوستان میں سادات بارہہ و بلگرام ، ہسوہ ،جونپور ، سرسی وغیرہ اسی دودمان عالی سے ہیں

4- محمد بن زید کی والدہ ام ولد سندھی تھیں ، اپ کا سلسلہ اولاد جعفر الشاعر سے جاری ہے ،افغانستان و ایران میں آپ کی اولاد کا سلسلہ جاری ہے

ہندوپاک میں سادات زیدی ،تقسیم ہند سے قبل ، ساڈھورہ، لودھیانہ ، کرنال، گوڑ گاؤں ، ریواڑی وغیرہ میں اباد تھے اور سب پاکستان ہجرت کر گئے

امام ابو حنیفہؒ اور زید بن علی بن حسینؒ


امام ابو حنیفہ کا ایک قول زیدیہ کی مشہور کتاب التحف شرح الزلف میں نقل کیا گیا ہے : 
’’ میں نے زید کو دیکھ اور مجھے اس زمانے میں ان سے بڑا فقیہ ، صاحب علم، حاضر جواب اور ذکی کوئی اور نظر نہ آیا۔‘
امام ابو بکر جصاص الرازی  نے اپنی تفسیر  کی جلد اول صفحہ ۸۱ پر نقل کیا ہے کہ زید بن علی بن حسین نے جب ۱۲۲ ہجری میں  ہشام بن عبدالملک کے خلاف جدو جہد کا آغاز کیا تو امام ابو حنیفہؒ کی پوری ہمدردی ان کے ساتھ تھی، انہوں نے زید کو مالی مدد بھی دی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین  بھی کی  (احکام القرآن جلد ۱ صفحہ ۸۱)
زیدیہ روایات کے مطابق جناب زید نے  ابوحنیفہ کو اپنے اصحاب کے ذریعہ پیغام بھجوایا اور ان سے مدد طلب کی اور بنی امیہ کی حکومت کے خلاف جہاد کی دعوت دی۔ ابو حنیفہ نے بھی زید کے لئے مالی مدد روانہ کی اور کہا ، حضرت زید کا میدان جہاد میں نکلنا جناب رسول اللّٰہ (صلى الله عليه وسلم) کی بدر میں تشریف آوری کے مشابہ ہے ! ( دیکھئے – المصابیح – از ابو العباس احمد ابن ابراہیم الحسنی)

مسند زید کی روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کوفہ کے چند اہل علم کے ہمراہ حضرت زید سے ملنے جاتے تھے ! 
 ابن حجر مکی کی ایک روایت کے مطابق امام ابو حنیفہؒ نے ہشام بن عبدالملک کے خلاف جدو جہد کو جنگِ بدر میں نبی ﷺ کے نکلنے  سے تشبیہہ دی !

حضرت زید شہیدبن علیؓ نے اپنے اجداد کی سیرت و سنت پر عمل کرتے ہوئے امر بالمعروف و نہی المنکر کی بقاکی خاطر ظلم و جور کی استبدادی قوتوں سے مقابلہ کیا اور میدان کارزار میں جام شہادت نوش فرماکر اپنے دادا حضرت امام حسینؓ کی طرح زندہ جاوید بن گئے

بہ ہر طور حضرت زید بن علی الشہید ہماری تاریخ کا ایک نہایت روشن باب ہیں اور مینارہ نور ہیں ، آپ پر اللّٰہ کی رحمتیں نازل ہوں ! 

عبداللہ بن مسلم البابکی جو جناب زید کے ایک رفیق تھے ، فرماتے ہیں :

ہم لوگ جناب زید کے ساتھ مکّہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے ، جب آدھی رات ہوئی اور ثریا ستارہ نمودار ہوا تو حضرت زید نے فرمایا ، ائے بابکی کیا تم اس ستارہ کو دیکھ رہے ہو ، کیا تم سمجھتے ہو کوئی وہاں تک پہنچ سکتا ہے ؟ ، عرض کیا نہیں ، فرمایا ” واللہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس ستارے سے میرے ہاتھ لگیں اور وہاں سے گر کر میرا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور الله اس کے عوض میں امّت محمد صلّ الله علیہ وسلّم میں اتحاد پیدا فرما دے -( مقاتل الطالبین از ابو الفرج اصفہانی )


مرا بہ تیغ ستم کشت و گفت از ناز 
چراغ دودۂ زید شهید__ روشن شد

حوالہ جات

  • طبری، محمد بن جریر، ۱۴۰۷ق، تاریخ الامم و الملوک،‌دار الکتب العلمیہ، بیروت
  • اعتقاد ابن عساکر در تاریخ دمشق
  • صابری، تاریخ فرق اسلامی، ج۲، ص۶۵ 
  • تاریخ القرآن ابوبکر جصاص ج 1
  • المصابیح – از ابو العباس احمد ابن ابراہیم الحسنی
  • منامات – ابن ابی دنیا
  • التحف شرح الزلف. تأليف المولى العلامة السيد أبي الحسين مجدالدين بن محمد المؤيدي
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ،‌ دار صار، بیروت.
  • اصفہا نی، ابی الفرج ، مقاتل الطالبین، ص۱۲۴
  • 142)142 ـ تهذيب التهذيب
  • خویی، ابو القاسم، ۱۳۷۲، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواه، مرکز نشر الثقافہ الاسلامیہ، قم.
  • عمرجی، احمد شوقی ابراهیم، الحیاه السیاسیہ و الفکریہ للزیدیہ فی المشرق الاسلامی، مکتبہ مدبولی، قاہره.
  •  مسند سیدنا زید بن علی ، مولانا محمد اشرف اردو
  • مسند الامام زید -اردو مولانا  ابو العلا ء محی الدین جہانگیر 
  • ابن حبان ، الثقات 
  • طبقات ابن سعد

Khalid Bin Umar is a history buff who writes on Micro-history, Heritage, Sufism & Biographical accounts. His stories and articles has been published in many leading magazines. Well versed in English, Hindi, Urdu & Persian, his reading list covers a vast arrays of titles in Tasawwuf & Oriental history. He is also documenting lesser known Sufi saints of India

+ posts
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)