واقعہ کر بلا کا پس ِمنظر ۔۔۔شمس جیلانی

حضرت امام حسین (ر۔ض) کے مزار شریف کی قدیم تصویر
حوالہ
https://libmma.contentdm.oclc.org/digital/collection/p16028coll11/id/3883

قا رئین ِ گرامی ۔کچھ دو ستوں کا ہمیشہ کی طرح پھر اصرار ہے کہ میں بھی واقعہ کر بلا پر کچھ لکھو ں ۔لیکن میں ہمیشہ اس پر لکھتے ہو ئے  گھبراتا ہوں کہ یہ وہ منزل ہے ۔جس میں لو گو ں کی نا را ضگی کے علا وہ خود اپنی عاقبت خراب ہو جا نے کاخطر ہ ہے ۔ لوگوں کی نا را ضگی یو ں کہ لکھتے ہو ئے میں جھو ٹ لکھنے، یا ڈنڈی ما رنے کا عا دی نہیں ہوں اور رہی عا قبت، اس کی وجہ وہ حدیث ہے جو میرے رو نگٹے کھڑے کر دیتی ہے کہ “علی  تمہا را معا ملہ بھی بالکل حضرت عیسٰی کی طر ح ہے کہ کچھ لو گ تمہا ری محبت میں اتنے بڑھ جا ئیں گے کہ اپنے اعمال ضا ئع کر دیں گے اور کچھ مخا لفت میں اتنے بڑھیں گے کہ اپنے اعما ل کھو دیں گے ًاس کی مثا ل یہ فر ما ئی کہ ایک قوم نے عیسٰی کو نہیں ما نا اور پھا نسی پر چڑ ھا نا چا ہا، اور دوسری نے ان کی محبت میں یہ کیا کہ انہیں کیا سے کیابنا دیا  “ یہ حدیث تما م لو گو ں کے نزدیک مصدقہ ہے اور ابن ِ کثیر (رح) نے اس کوحضرت علی  (رض)کے فضا ئل بیا ن کر تے ہو ئے تحریر کیا ہے۔

 یہ آپ سب جا نتے ہیں کہ ابن ِ کثیر (رض) انتہا ئی ثقہ قسم کے مفسرین اور سیرت نگا ر ما نے جا تے ہیں ۔جن کے لیئے علا مہ شبلی نعما نی (رح) نے حضو ر (ص) کی سیرت مر تب کر تے ہو ئے بڑے دکھ سے فر ما یا تھا اگر مجھے ً البدا یہ والنہا یہ ً (ابن کثیر کی سیرت ِ حضور (ص) پر کتاب ) مل جا تی تو میں سیرت کو اور بھی بہتر طو ر پر لکھتا ۔یہ ہما ری خو ش قسمتی ہے کہ آج پر نٹنگ کی صنعت بہت آگے بڑھ گئی ہے اور پرانے زمانے کی کتا بیں جو سا ری دنیا کی لا ئبر یریو ں میں بکھر ی ہو ئی تھیں آسانی سے دستیا ب ہیں ۔اس کا اردو میں تر جمہ بھی ہو چکا ہے ۔اسے ضرورپڑھیئے ۔کیو نکہ ہم نے اس مضمو ن کی تیا ری میں اسی سے مدد لی ہے ۔دراصل اس مو ضوع پرلکھتے ہو ئے سب سے بڑا مسئلہ جو ہے وہ عدم توا زن کا ہے، کہ دو نوں طر ف کے لو گ افراط اور تفریط کا شکا ر ہو گئے ہیں اور وہی ان کا جز ِ ایما ن بھی بن گیا ہے ۔جسے انشا اللہ آگے چل کر علم ہی بد لے گا ۔

واقعہ کربلا کی بہ ظاہر تووجہ یہ تھی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شہا دت کی بعد اقتدار ایک با ہمی معا ہدے کے تحت حضرت امام حسن (رض) نے حضرت معا ویہ (رض) کے سپر د فرما دیا تھا ۔جس کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ خلا فت حضرت معا ویہ (رض) کے انتقا ل کے بعد واپس امت کو لو ٹا دی جا ئے گی۔ اور وہ جس کو چا ہے اپنا خلیفہ منتخب کر ے ۔اس کے بعد ہو نا تو یہ چا ہیئے تھا کہ جو حضرت علی (رض) کے خلا ف دشنا م طرا زی بر سرِ منبر ان کی طر ف سے جا ری کی گئی تھی وہ ختم کر دی جا تی ۔مگر ایسا نہیں ہو ا اور وہ جا ری رہی ۔دوسری طر ف حضرت امام حسین (رض) کی شہا دت کے بعد چو نکہ عا م اجتما عا ت پر پا بندی تھی۔ لہذا لو گ چھپ کر یا سینہ بہ سینہ خبر یں منتقل کر تے رہے۔ کیو نکہ بنو امیہ نے ہزا روں آدمی اسی جر م میں قتل کر ڈا لے تھے، لہذا وہی طر یقہ مروج ہو گیااور آج تک جا ری ہے ۔ جبکہ ہما رے یہا ں خرا بی یہ پیدا ہو گئی کہ علم کے دروازے ہزا ر سا ل پہلے بند کر دیئے گئے ۔ لہذا یہ اصو ل کہ سیب کا موازنہ سیب کے سا تھ اور آلو کا آلو کے سا تھ کر نا چا ہیئے، تحقیق نہ ہو نے کی وجہ سے قا ئم نہ رہ سکا۔ اس کے بجا ئے پرو پیگنڈے سے متا ثر ہو کر لوگ آلو کو سیب کا، اور سیب کو آلو کا در جہ دیتے رہے۔ جبکہ قر آن کہہ رہا ہے کہ سب برابر نہیں ہو سکتے ہیں ۔ جا ئزہ لے ڈا لیئے پو ری ہما ری تا ریخ اس سے بھری پڑی ہے ۔اتنی مثا لیں ہیں کہ آپ میری مجبو ری کو خو د سمجھ جا ئیں گے۔ کیو نکہ اس کے لیئے یہ چند اوراق با لکل نا کا فی ہیں ۔بہر حال اگرآپ مجھے سچ بیا ن کر نے کی اجا زت دیں، تو ہلکا سا جا ئزہ لے کر میں ان اورا ق میں آپ کے سا منے کچھ پیش کر سکتا ہوں ۔

در اصل مسا بقت کی چپقلش ان دو نوں خا ندا نو ں میں بہت پر ا نی ہے ۔اگر حضرت عبد المطلب کے پا س کعبہ کی تو لیت تھی تو بنو امیہ کے پا س حجا ج کی خدمت ۔لہذا ان کے خیا ل میں اس طر ح برا بری قا ئم تھی ً اب جب بنو ہا شم میں نبی  ﷺ تشریف لے آئے تو ان کو پر یشانی لا حق ہو ئی کہ نبی تو دو نہیں ہو سکتے ۔لہذا ہما ری مرا عا ت چلی جا ئیں گی اور ہم ان سے پیچھے رہ جا ئیں گے؟

 نتیجہ یہ ہو ا کہ انہو ں نے پہلے دن سے لیکر فتح مکہ تک جو آٹھ ہجری میں ہو ئی ڈٹ کر اسلام کی مخا لفت کی ۔جبکہ بنو ہا شم بٹے ہو ئے تھے اور حضو ر ﷺ کے اپنے چچا بھی سوا ئے حضرت ابو طا لب کے سب ان کے خلا ف تھے ۔دو سرے چچا ؤں میں سے سب سے پہلے حضرت حمزہ  مسلما ن ہو ئے۔ابو لہب دشمنی پر آخر تک قا ئم رہااور ایک خا تون کے خیمہ کی تناب ما رنے سے زخمی ہو کر غزوہ بدر کے بعد عبرتناک مو ت مر ا۔ حضرت عبا س بدر میں لڑنے آئے اور گر فتا ر ہو ئے ۔ان کو رسیوں سے بند ھا ہو ا دیکھ کر حضو ر ﷺ تڑپ اٹھے۔ اور جب جا نثا را ن رسول ﷺ نے اپنے آقا کے چہرے پرغم اور اندوہ کے با دل منڈ لا تے دیکھے، تو انہو ں نے انہیں بلا معا وضہ رہا کر دیا۔ لیکن وہ پھربھی ایمان نہیں لا ئے کیو نکہ وہ وہا ں پا نی پلا نے کی خدمت پر ما مو ر تھے۔ لہذا انہو ں نے بھی سن آٹھ ہجری تک ایما ن قبول نہیں فر ما یا حتٰی کہ وہ اس وقت راہ میں حضو ر ﷺ سے آکر ملے۔ جب حضو ر ﷺ فوج لیکر مکہ پر حملہ کر نے تشریف لے جا رہے تھے ۔

یہ ہے و ہ مختصر سا تا ریخی جا ئزہ۔ اب ہم دو نو ں خا ندا نو ں کے رویہ کو پیش کر تے ہیں۔جیسے ہی حضو ر ﷺ نے دعویٰ نبو ت  فرمایا سب سے پہلے اس خاندا ن کے فر د حضرت علی کرم اللہ وجہ تھے جنہو ں نے دین قبو ل کیا ۔ابن ِ کثیر (رح) نے بہت سے حوالو ں سے یہ ثا بت کیا ہے کہ حضو ر ﷺ نے نبوت کا اعلان پیر کو کیا اور حضرت علی (رض) نے اسلام منگل کو قبو ل کیا (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی (رض) اور حضرت خدیجہ (رض)  اس سے بھی پہلے سے نماز میں شامل ہوچکے تھے ) ۔اس کے بعد سے ہر مر حلہ پر یہ خا ندا ن سینہ سپر رہا اور اتنے ظلم سہے جو شا ید ہی کسی خا ندا ن نے پہلے سہے ہو ں۔  ان کا ہر طر ح کا با ئیکا ٹ کیا گیا شدت اس سے سمجھ لیجئے کہ ان کو اپنے گھر چھو ڑ کر شعب ابی طا لب میں پنا ہ گز یں ہو نا پڑا، جو بعض روایا ت کے مطا بق سا ت سا ل پر محیط رہا اور ان کے مر د ہی نہیں بلکہ خوا تین بھی اس کی سزا بھگتی رہیں ۔ ان میں ایک نا م اُم ِ ہا نی کا بھی ہے جو کہ حضرت علی (رض) کے سگی ہمیشرہ (رض) تھیں ۔

 دوسری طر ف بنو امیہ تھے جنہو ں نے ظلم کی حد کر دی تھی ۔ حضرت ِ بلا ل  حبشی ان ہی کے غلا م تھے انکے سا تھ سلو ک تا ریخ کا حصہ ہے خیر وہ تو غیر تھے ۔اپنو ں کے سا تھ ان کا عا لم یہ تھا کہ حضرت عثما ن (رض)  کو حبشہ ہجرت کر نا پڑی، ابو سفیان کی صا حبزادی جو کہ تا ریخ میں اُم ِ حبیبہ (رض)  کے نام سے مشہو ر ہیں اور بعد کو ام المو نین  بنیں جن کو شا ہ نجا شی نے حضو ر (ص) کی طر ف سے وکیل بن کر حضو ر (ص) کے نکا ح میں دیا ( جبکہ اس نکا ح میں ان کے ولیوں کا کو ئی دخل نہ تھا ) ان کو بھی اپنے پہلے شو ہر عبد اللہ بن حجش کے سا تھ حبشہ ہجرت کر نا پڑی اور حضرت عبد اللہ بن حجش وہا ں انتقال فر ما گئے ۔

حضرت علی  (رض) کی خلا فت ۔حضرت علی  (رض)نہ جا ہ پر ست تھے ،نہ عیش پر ست ۔لہذا ان کے نزدیک کوئی بھی عہدہ ایک امتحان تھا ۔جس سے وہ ہمیشہ بچتے رہے ،ورنہ وہ بہت پہلے خلیفہ ہو جا تے۔ حضرت عثما ن  (رض)کے خلیفہ ہو نے سے پہلے کی ،با ت یہا ں تک پہنچ گئی تھی کہ کثرت را ئے ان کے حق میں تھی اس لیئے مسجد ِ نبو ی میں حضرت عبد الرحمن (رض) بن عو ف نے حضرت علی (رض) کا ہا تھ اپنے ہا تھ میں لیکر بلند کیا اور فر ما یا کہ میں تمہا رے ہا تھ پر بیعت کر تا ہو ،کیا ً آپ اللہ ، رسول اور شیخین  (رض)کا اتبا ع کریں گے؟ مگر انہو (رض) ں نے فر ما یا کہ نہیں میں صرف اللہ اور رسول کا اتباع کرونگا بقیہ اپنی صوابدید کے مطا بق فیصلے کرو نگا ۔اگر انہیں خلا فت اتنی ہی عزیز ہو تی تو ہا ں فر ما دیتے اور بعد میں وعدہ پو را نہ کر تے؟ مگر صدق ِ مقال (سچ بولنا)اور اکلِ حلال (پاکیزہ خوراک) کے بغیر ولایت ناممکن ہے۔ لہذا حضرت نے علی (رض) نے بچپن ے لیکر مرتے دم تک ان دونوں باتوں کی پابندی فر مائی، ولی ہر چیز سے غنی ہوتا ہے لہذا ولی کے نزدیک دنیاوی حکومت اور مال بہت معمولی چیز ہے اور ثبوت یہ ہے کہ وہ تو بہت بڑی ہستی تھے مگر ان کے غلاموں کے بھی ٹھوکروں میں تاج پڑے رہے مگر انہوں نے بھی کبھی نظر اٹھاکر نہیں دیکھا جبکہ تا ریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بادشاہوں نے تا ج چھوڑ کر خرقہ ولایت سر پر رکھ لیا۔ چونکہ انہیں ولایت عزیز تھی اسے ہمیشہ محفوظ رکھا ورنہ جیسے خلا فت را شدہ کے بعد با د شا ہو ں اور آمر وں نے کیا وہ بھی کر سکتے تھے، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے کہ ہاں کر نا مگر عمل نہ کرنا۔

حضرت علی (ر۔ض) کے مزار شریف کی تصویر
حوالہ ویکیپیڈیا

 چو نکہ حضرت عثمان (رض) کی شہادت کے بعد اب صورت ِ حال یہ تھی کہ اسلام کو ہی خطرہ پیدا ہو گیا تھا تو حضور ﷺ نے جن کو اپنے بعد نگراں بنایا تھا وہ کیسے دین کی پا مالی پر خاموش تما شائی بنے رہ سکتے تھے ؟ جبکہ اس قت دار الخلا فہ تک خار جیو ں کے قبضہ میں تھا ۔ اس کی وجہ حضرت عثما ن (رض) کی وہ حیا تھی جس کے سب ہی معترف ہیں جو اپنو ں سے ہی نہیں دشمنوں سے بھی حیا فر ما تے تھے اور جو آج تک خطبہ جمعہ میں ایک فقہ میں پڑھا جا تا ہے ۔ لہذا حضرت عثمان (رض) نے ایک طو یل محا صرہ قبو ل فر مالیا، مگر اپنے لیئے مسلما نو ں کو تلوار اٹھا نے کی اجا زت نہیں دی ۔بعض مور خین نے لکھا ہے کہ جس وقت وہ شہید ہو ئے اس وقت بھی کا فی تعداد مسلما نو ں کی ان کے گھر ًالدار ً کے مر دانہ حصے میں مو جو د تھی مگر ابن ِ کثیر (رض) نے لکھا ہے کہ وہ لو گ حضرت عثما ن  (رض)کے نہ لڑنے کی قسم دینے پر چلے گئے ۔ کیو نکہ حضرت عثما ن (رض) نے انکو مدد کے لیئے اجا زت نہیں دی ۔آخر با غیوں نے حضرت عثما ن  (رض)کو شہید کر دیا ۔ جن کی تعداد ہزاروں میں تھی اور وہ سب خو د کو شہا دتِ حضرت عثما ن  (رض) کا ذمہ دا ر ٹھہرا تے تھے در اصل یہ ان کی چا ل تھی تا کہ ان کے کسی آدمی پر زد نہ پڑے ۔ان حا لا ت میں پہلے تو حضرت علی (رض) اس حدیث پر عمل فرماتے ہو ئے ایک باغ میں تشریف لے گئے کہ ً جہاں فتنہ ہو وہاں سے ٹل جا ؤ ًمگر جب وہاں بھی لوگ حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) کو لیکر پہونچ گئے اور حضرت طلحہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے بیعت کے لیئے اپنا ہا تھ بھی بڑھا دیا ۔لیکن حضرت علی  (رض)نے فو را ً بیعت قبو ل نہیں فر ما ئی بلکہ فر ما یا کہ خلا فت کو تین دن تک کھلا رکھو جب کو ئی تین دن میں بھی اس کے لیئے تیا ر نہ ہو ا توا نہوں (رض) نے بیعت قبول کی۔ کیو نکہ خلافت اب کا نٹوں کا تا ج تھی کوئی بھی تیار نہ ہوتے دیکھ کر ، مجبو راً انہو ں (رض) نے قبو ل فر ما لی ۔

لیکن ایک شا طر دما غ جس کا نا م مروان بن الحکم  بن امیہ تھا، جس کی معزولی کا مطا لبہ خو ارج اس کی حرکتوں کی وجہ سے لیکر آئے تھے ۔جوکہ انتہائی شاطر تھا۔ مگر حضرت عثما ن (رض) نے اسے اپنا نا ئب بنا یا ہوا تھا ۔ اس کا نا م آج بھی عوام میں خصو صا “ سندھیوں میں ضرب المثل ہے کہ ً با با ہو وڈو مروان ہے ً (وہ تو بہت بڑا مروان ہے) اس کا دماغ کا م کر رہا تھا اور نتیجہ یہ ہو ا کہ وہی حضرت زبیر  (رض)اور طلحہ (رض)  جنہو ں نے حضرت علی (رض) کی صبح سب سے پہلے بیعت کی تھی شام کو سب سے پہلامطا لبہ یہ لیکر تشریف لا ئے کہ حضرت عثما ن (رض) کے قا تلو ں کو فو را ً گر فتا ر کیا جا ئے ۔ وجہ کیا تھی کہ مروان اب لو گو ں کو بھڑکا رہا تھا ؟ چو نکہ اس کے خلا ف بد عنوا نیو ں کے الزا م تھے لہذا اس کی خیر اسی میں تھی(  نوٹ ۔در اصل اسے حضو ر (ص) سے اور اہل ِ بیت سے پر خا ش تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے با پ الحکم کو حضو ر ﷺ نے طا ئف جلا وطن کر دیا تھا جو کہ حضرت عثما ن  رض)کے زما نے میں وا پس آئے اور حضرت عثمان اس کو اپنا داماد اور کاتب بنا لیا۔یہ ہی مروان  سلطنت بنو امیہ کا بانی سمجھا جاتا ہے اس کی اہمیت کا اندا زہ اس سے لگا لیں کہ خلا فت حا صل کر نے کے بعد حضرت معا ویہ (رض) اسے لا کھو ں در ہم اکثر بھجوا تے رہے اور جنگ جمل کے بعد جس شخص نے اسکو کوفہ میں پناہ دی تھی اسکو کو بھی سلا طین َ بنو امیہ نوازتے رہے ) ۔  مروان جعلی خط بنا نے میں بھی ما ہر تھا جس کے ذریعہ اس نے آگ لگا ئی ، مروان کی کو شش تھی کہ سب کو لڑا دیا جا ئے اور وہ اس سے ثا بت ہے کہ حضرت معا ویہ نے بھی اس مسئلہ پر جب طا قت استعما ل کر نا چا ہی اور مد ینہ پر فو ج کشی کا ارادہ کیا تو اس نے مشورہ دیا کہ پہلے اس مسئلہ پر دشمنو ں کو لڑ نے دو تا کہ یہ کمزور پڑ جا ئیں۔ پھر خلا فت پرقبضہ کر لیں گے۔ کیو نکہ اس میں اس کی بچت تھی ۔ وہ بھی بنو امیہ میں سے تھا اور حضرت معا ویہ  (رض) بھی بنو امیہ میں سے تھے ۔

        بہر حا ل نتیجے کے طو ر پر جنگ جمل میں حضرت علی  (رض)اور حضرت زبیر (رض) آمنے سا منے ہو ئے اور جب حضرت علی (رض) نے یہ حدیث سنا ئی کہ ً تم دو نو ں ایک دو سرے کے سا منے ہو گے اور علی حق پر ہو نگے تو وہ پلٹ گئے ً اور حضرت حضرت طلحہ (رض) بھی پلٹ آئے ۔ مگر جب مروان نے انہیں وا پس جاتے ہو ئے دیکھا تو اس نے تیر ما ر کر ان (رض) کو شہید کر دیا اور حضرت حضرت طلحہ (رض)  بھی شہید کر دیئے گئے۔ اس کی سازشوں سے جنگ ِ جمل جو ٹل گئی تھی ہو کر رہی اور وہ وہاں سے بھی بخیریت حضرت عائشہ  (رض)کے قافلے میں چھپ کر واپس مکہ معظمہ پہونچنے میں کا میاب ہو گیا۔ پھر سازشوں کا مر کز اس نے وہاں بنا لیا ۔

ادھر تو یہ عا لم تھا اور دوسری طر ف حضرت معا ویہ جو گور ِ نر شا م حضرت عمر (رض) کے زما نے سے تھے ۔شا م وا لے صرف انہیں کو حضو ر (رض) کا قرا بت دار جا نتے تھے ۔با قی اہل ِ بیت کو اس زما نہ میں ذرا ئع ابلا غ نہ ہو نے کی وجہ سے وہ جا نتے ہی نہ تھے ۔جبکہ حضرت معا ویہ (رض)  امت کے ما مو ں کہ طو ر پر شام میں پہچا نے جاتے تھے ۔ انہو ں نے مر کز یعنی خلیفہ وقت کی بیعت اس شر ط کے سا تھ مشرو ط کر دی کہ وہ حضرت عثما ن  (رض)کے قا تلو ں کو ان کے سپرد کردیں ۔ جو ظا ہر ہے کہ اس وقت نا ممکن تھا ۔ حضرت علی (رض)  کا استدلا ل یہ تھا کہ مجھے کچھ وقت دو تو میں کچھ کرو ں ۔ جبکہ یہ سب لو گ فورا ً چا ہتے تھے ۔ جبکہ یہاں دار الخلا فہ تک عملی طور پر خوا رج کے قبضے میں تھا۔ اور مسلمان با ہمی انتشا ر کا شکا ر تھے ۔ چونکہ یہ مطالبہ پورا نہیں کی جاسکتا تھا؟اس کے بعد اسی کی آڑ لیکر حضرت معاویہ (رض)  برا بری اور خلا فت کے دعویدار ہو گئے اور انہو ں نے شا م پر اپنی با د شا ہت کا اعلا ن کر دیا ۔ جو کہ ان کے اس خط سے ظا ہر ہے جو انہو ں (رض) نے حضرت علی  (رض) کو اپنے استحقا ق ِ قیا دت کے لیئے تحر یر فر ما یا  ً اے ابو الحسن ! (رض) مجھے تم پر بہت سے فضا ئل حا صل ہیں میرا با پ جا ہلیت میں سردار تھا ۔اور میں اسلام میں با د شا ہ بن گیا ہو ں ۔اور میں رسول اللہ  کا قرا بت دار اور مو منین کا ما مو ں اور کا تب ِ وحی ہو ں ً

اس کے جواب میں جو خط حضرت علی نے تحریر فر ما یا اس کا متن یہ ہے ًمحمد جو نبی ﷺ ہیں وہ میرے بھا ئی اور قرا بت دا ر ہیں۔اور سید الشہدا ءحضرت حمزہ  (رض)میرے چچا ہیں اور حضرت جعفر طیار (رض) جو صبح وشا م فر شتو ں کے سا تھ محو ِ پر واز ہیں، وہ میری ما ں کے بیٹے ہیں۔ اور محمد ﷺ کی صا حبزا دی (رض) میری را حت ِ جاں اور میری بیو ی ہیں۔ اور ہم دو نو ں کے لمس سے میرے دو بیٹے ہیں جو احمد  (ﷺ)کے نو اسے ہیں ۔ پس تم میں سے کس کا حصہ میرے جیسا ہے ،میں (رض) نے چھو ٹی عمر میں جب کہ بالغ بھی نہیں ہواتھا۔تم سب سے پہلے اسلام میں سبقت کی ہے ً  ( حا لانکہ حضرت علی  (رض)نے اپنے چند فضا ئل بہت ہی انکسا ری سے تحریر فر ما ئے ہیں ورنہ ان کے فضا ئل میں احا دیث کی کتا بیں بھری پڑی ہیں )

ابن ِ کثیر نے (رح) آگے بہت سے حوالوں سے لکھا ہے کہ را وی بیا ن کر تا ہے کہ ً حضرت معا ویہ  (رض)نے فر ما یا کہ اس خط کو پو شیدہ رکھو اہل ِ شا م نہ پڑھنے پا ئیں ورنہ وہ ابن ِ (رض) ابی طا لب کی طر ف ما ئل ہو جا ئیں گے ۔ حضو رﷺ کا  ًارشا د ِ گرامی یہ لو گ اگر شروع میں سمجھ لیتے کہ اسلام سے تمہیں کو فا ئدہ پہو نچے گا، کہ لا الہ پڑھ لو تم عرب اور عجم کے بادشاہ بن جا ؤگے،  یہ وہ موقعہ تھاجبکہ مخاطب قریش تھے؟( اس میں وہ نکتہ پنہاں تھا جو بعد میں ظاہر ہواکہ اہل ِ عرب قر یش کی سیا دت کے سوا اور کسی پر کبھی متفق نہ ہو نگے ) تو شا ید ان کا رویہ کچھ اور ہو تا ؟ مگر یہ فتح مکہ کے بعد سمجھ پا ئے۔اور حضرت معا ویہ (رض) کے وا لد ابو سفیا ن  (رض)نے حضور  ﷺکے سامنے تین درخواستیں فتح مکہ کے بعدپیش کیں۔پہلی یہ کہ ً جس طر ح میں نے اسلام دشمنی کی اسی طر ح میں اب اسلام کی حما یت میں لڑوں گا اجازت مر حمت فرمائی جائے( ٢) معا ویہ  (رض) کو کا تب وہی بنا لیجئے اور تیسری یہ کہ میری بیٹی عزة کو اپنے نکا ح میں لے لیجئے   حضو رﷺ نے پہلی دو خواہشوں کے جو اب میں فر ما یا اچھا! مگر تیسری کو نا منظو ر فر ما دیا ! پہلی وجہ تو یہ تھی کہ شر یعت ِ محمد یہ میں دو بہنو ں کو ایک نکا ح میں جمع کر نا منع ہے اور ام المومنین ام ِ حبیبہ (رض) پہلے سے ام المو نین تھیں جو ابو سفیا ن (رض) کی صا حبزادی تھیں ۔ اورمز ید شا دیو ں کی اس وقت تک حضو ر ﷺکو مما نیعت بھی آچکی تھی ۔لہذا حضرت معا ویہ (رض)  ان کا تبا ن وحی کے سا تھ وحی لکھنے لگے جو پہلے دن سے لکھتے آرہے تھے ۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان کو حضو ر (ص) کی قربت ہی بہت ہی کم حا صل رہی!

سال 1932 کی حضرت امام حسین (ر۔ض) کے مزار شریف کی قدیم تصویر
https://www.flickr.com/photos/pingnews/463157434

        اب مسا بقت کے بجا ئے چو نکہ بر تری کا مو قع اللہ تعا لیٰ نے انہیں عطا فر ما دیا تھا۔اس کا تقا ضہ یہ تھا کہ دعویدا ران قرابت ِ حضو ر ﷺ کا صفا یاکر دیا جا ئے ۔ مختصرا ً یہ کہہ کر میں اس با ت کو ختم کر تا ہو ں کہ شہا دت ِ حسن  (رض)پھر شہا دت ِ حسین  (رض)اور شہادات ِ اہل ِ بیت (س) اسی منصو بہ کا ہی حصہ تھیں، جس کو حضرت امام حسین (رض) نے سمجھ لیا تھا۔  کہ اگرو ہ کوفہ تشریف نہ لے جا تے تو حرمتِ کعبہ اور مد ینہ کو خطر ہ تھا۔ جو کہ بعد میں آنے وا لے نہ سمجھ سکے اور وہ پا ما ل ہو کر رہی ۔ دنیا نے دیکھا کہ وہ مکہ معظمہ جو قیامت تک کے لیئے حرام تھا، اس پر حملہ ہوا حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے جام ِ شہادت نوش کیاان (رض) کے جسد ِ مبا رک کو پھا نسی پر لٹکادیا گیا اور  حرم شریف کو مسمار کیا گیا اورمدینہ کو تا راج کیا گیا ۔  چو نکہ شہا دت مشیت الٰہی تھی اور طے شدہ امر تھا ۔اسی لیئے مخبر ِ صا دق ﷺ نے پہلے ہی پیش گو ئی فر ما دی تھی کہ ً حسن  (رض)اور حسین (رض) جنت کے سردار ہیں اور میراﷺ ایک بیٹا (رض) مسلما نو ں میں صلح کرائیگا اور دو سرا (رض) خو د اپنی جا ن دے کر اسلام کو بچا ئے گا ً دو نو ں نے اپنے اپنے کردار اس حدیث کی روشنی میں پو رے کر دکھا ئے۔ چونکہ حدیث ِ حضرت ابن  (رض)ارقم کے مطابق انکے بعد انکی اولاد کو بھی نگراں بنایا گیا ہے لہذا وہ سنت ِ حسین (رض) دہرائی رہی ہے اور  قیامت تک دہراتی رہے گی ۔اب حضرت حسین (رض) نے مظلومیت کو ایک راہ دکھا دی ہے۔ اس کے بعد جو بھی ان (رض) کے راستے پر چلے گا ، وہ حسین ِ (رض) ثا نی کہلا ئے گا ، حسین  نہیں !   مختصر یہ ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں بشارت دی اور کربلا جاکر یہ فرماکر شمر کے جواب میں جان دیدی کہ میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کرسکتا ہوں جوکہ آخرت پر ہی یقین نہیں رکھتا۔ 

Website | + posts
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)