وہ نبیوں(ص) میں رحمت لقب پانے والے – شمس جیلانی

کل وہ دن طلوع ہو نے والا ہے جس میں کہ سر کا ر ِ دو عا لم محمد مصطفٰی ﷺکی ولادت با سعا دت ہو ئی۔ان کے با رے میں اتنا کچھ لکھا گیا کہ شا ید ہی کسی کے با رے میں لکھا گیا ہو۔ جو آپ ہر سا ل رو ایتی مضا مین میں پڑھتے ہیں لیکن جب کو ئی شخصیت ہمہ صفت ہوتو اس کا کو ئی نہ کو ئی پہلو وہ اہمیت نہیں حاصل کر پا تا اور نگا ہو ں سے اوجھل رہ جا تا ہے۔ جوبعض اوقات اس کی سب سے اہم خصو صیت ہو تی ہے اور دب جا تی ہے۔یہ ہی معا ملہ آقا ئے نا مددارﷺ کے با رے میں ہے کہ وہ ایک کا مل شخصیت تھے۔ لہذا لو گو ں نے انہیں بطو ر نبیﷺ پیش کیا، بطو ر بہترین سپہ سالار ﷺپیش کیا، بہترین منتظم ﷺپیش کیا، بہترین منصفﷺ پیش کیا مگر کسی بھی اسکا لر نے انﷺ کے اس وصف پر زیا دہ روشنی ڈا لنے کی کوشش نہیں کی جو اس دور میں اور ان ﷺکی شخصیت میں نا در الو جو د تھا۔ مگران ﷺکے خا لق کی نگا ہ میں سب سے زیا دہ اہم تھا۔ وہ تھیں دو صفا ت جو قدرتی طو ر پر ہمیشہ ایک دو سری سے جڑی ہوئی ہو تی ہیں اور وہ ہیں خلق ِ عظیم اور رحمت یعنی با الفا ط ِ دیگر ایک انتہا ئی اچھا اخلا ق اور رحیما نہ طبیعت جو خالق کی نگا ہ میں سب سے ا ہم تھیں۔جس نے بے حسا ب مخلو ق تخلیق کی اور ان سب میں سے ایک کا مل انسا ن پیدا کیا جس پر تما م اکملیت ختم کر دی اور اس میں سے اس کے نز دیک سب سے زیا دہ جو چیز اہم تھی وہ اس نے چن لی جو کہ رحمت تھی اور حضو رﷺ کی اکملیت کے حسا ب سے وہ بھی بہ د رجہ اتم عطا فر ما ئی۔لیکن حضورﷺ کا دور وہ دو ر تھا جس میں حکمرانو ں کی عظمت دو سری چیزو ں کی بنا پر ما نی جا تی تھی۔ وہ تا ریخ دانوں نے حضو رﷺ میں پا ئیں اورچن لیں لہذا جو جمع کنند گان کے خیال میں ا ہم تھیں اور لو گو ں کے سینو ں میں محفو ظ رہ گئیں تھیں ان کو محفو ظ کرلیا گیا۔کیو نکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ ایک دو ر ایسا آئے گا۔ جس میں سیرتﷺ کے اِس حصہ کا کھو ج لگا نا ہو گا جس کو خدمت ِ خلق، ایثار اور قربا نی کہتے ہیں اور اس کو ایک وقت میں وقت کے لحا ظ سے سب سے زیا دہ اہم ہونا تھا اور اسےسب سےزیادہ   اہمیت دی جا ئے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حضو ر ﷺکے چا لیس سا لہ کا رنا مے جو کہ لا کھو ں کی تعداد میں ہو نا چا ہیئے تھے کیو نکہ وہ پہلے چا لیس سال خدمت ِ خلق پر محیط تھے۔ ان میں سے چند کے سوا کچھ  کہیں درج نہیں کیو نکہ اس دور میں نہ کا غذ تھا نہ قلم اور نہ خوا ندہ لو گ۔ وہ یا دا شتیں بھی اسی طرح سینو ں میں تھیں جس طر ح دوسرے کا ر نامے مگر جمع نہ کر نے کے با عث جا نے والوں کے سا تھ وہ بھی چلی گئیں ۔ اور ان کا اب چو دہ سو سا ل کے بعد سرا غ لگا نا نا ممکن ہے۔ جیسی جیسی ضرورت ہو تی گئی اس پر لو گ حضورﷺ کے وصال کے بعدمتو جہ ہو تے گئے۔ مثلا ً ارکا ن اسلام اور روزمرہ کا کا رو با ر چلا نے کے لیئے احا دیث اورسنت کی ضرورت پڑی اور لو گو ں نے محسو س کیاکہ صحابہؓ کرام انتقال فرماتے جا رہے ہیں اور وہ بھی سا تھ میں دفن ہو رہی ہیں۔تو ان کو اکھٹا کر نا شروع کیا اور ایک ایک حد یث کے لیئے میلو ں کاسفر کیا مگر سیرت کے اس حصہ کی اس وقت کو ئی خا ص ضرورت محسو س نہیں کی گئی۔ لہذا کسی نے ان کو مر تب بھی نہیں کیا اور اب جبکہ دنیاہر چیز کاثبو ت ما نگتی ہے۔ جو انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک منٹ سے کم عرصہ میں دنیا کے اس کو نے سے اس کو نے تک پہو نچ جا تا ہے۔ اگر سیرت کے کسی طا لب علم سے یہ سوا ل پو چھا  لیاجا ئے کہ ً  حضور ﷺ کو ًرحمت اللعالمین ً کیو ں کہا گیا؟  تو وہ بغلیں جھا نکتا نظر آئے گا۔ اللہ تعا لیٰ مو لا نا حا لی ؒ  کی قبر کو منو ر فر ما ئے کہ انہو ں سب سے پہلے مسدس ؔحا لی میں یہ اشعارکہہ کر حضورﷺکا بڑا خو بصو ر ت تعا رف پیش کیا ہے   ؎وہ نبیوؑ ں میں رحمت ﷺلقب پا نے وا لا   وہ اپنے پرا یوں کے کا م آنیوالا۔ حرا سے اتر کر سو ئے قوم آیا   اوراک نسخہ کیمیا سا تھ لا یا  “ ان اشعار میں جو واقعا ت جس طر ح رو نما ہو ئے اسی تر تیب سے مو لا نا نے پیش کیئے ہیں۔ یعنی سب سے پہلے خدمت ِ خلق رحمت،شفقت اور مروت دیا نت وغیرہ جو چا لیس سا ل تک حضورﷺ کا طر ہ امتیا ز تھی۔ یعنی غلا مو ں کے حما یتی بو ڑھو ں کے مدد گا ر اور مظلو مو ں کی داد رسی انﷺ کا شیوہ تھا۔ جس کے لیئے قر آن نے کہا کہ اس کا عا مل کبھی فنا نہیں ہو گا۔ حضو رﷺنے تلقین فر ما ئی کہ خد مت کرو ،خدمت کرو، خدمت کرو۔ اور ایک حدیث میں فر ما دیا “کہ وہ انسا ن ہی نہیں جو انسا نو ں کے کام نہ آئے“ چو نکہ ابتدائی دور میں حضورﷺ کے پا س سوا ئے خد مت خلق کے کو ئی اور ذمہ دا ری نہیں تھی لہذا یا تو وہ لو گو ں کی خد مت میں وقت گزا رتے تھے یا پھر عبا دت میں۔ ان میں سے تھو ڑی سی مثا لیں اگر کسی کا مطا لعہ وسیع ہے تو کہیں کہیں سیرت کی کتا بو ں میں بکھری ہو ئی ملیں گی لیکن افرا ط سے اس لیئے نہیں ہیں کہ جیسا ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس پر تو جہ نہیں دی گئی۔ سیرت نگا روں کے نز دیک وہ حصہ زیا دہ اہم تھا جو نبوتﷺ پر مبعو ث ہو نے کے بعد  کے دو ر پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے کے واقعا ت اگر کہیں نظر بھی آئیں۔ تو عا م قا ری یو نہیں پڑھ کر گزر جاتا ہے۔کیو نکہ اس کے لیئے کو ئی علیٰحدہ با ب مو جو د نہیں۔ مگر آج کے دو ر میں ان ہی کی سب سے زیا دہ ضرو رت ہے کیو نکہ یہ دو ر خدمت ِ خلق کا دور ہے جس کی ابتدا حضورﷺسے ہو ئی تھی جو کہ ان کا طرح امتیاز تھا۔ (باقی کل پڑھیے) صفا ت کی طر ح اکملیت کے در جہ پر پہو نچی ہو ئی تھی۔ ہما ری صو رت حا ل یہ ہے کہ یہ کسی بھی مسلما ن سے پو چھیں کہ وہ کیا تھے تو فخر سے کہے گا کہ وہ“ رحمت اللعا لمین تھے“مگر وہ خصو صیا ت کیا تھیں جن کی بنا پر وہ رحمت اللعا لمین کہلا ئے اور خو د انﷺکے خا لق نے ان کو رحمت اللعا لمین فر ما یا۔اس پر بڑا سے بڑا عا لم چند مثا لو ں کے بعد خا مو ش ہو جا ئے گا۔ جبکہ غیر مسلم حضورﷺ کے زما نے سے لے کر آج تک وہ تمام چیزیں جمع کر تے آئے ہیں۔ جو گمرا ہ کن اور جھو ٹ کا پلندہ تھیں۔ تاکہ حضو رﷺ کے اوصاف حمیدہ کے خلا ف کسی طر ح کچھ بھی ثا بت کیا جا سکے اور ہم اس کے جو اب کے لیئے آج دلا ئل سے مسلح نہیں ہیں لہذا بعض اوقا ت ہم جھنجھلا ہٹ کا مظا ہرہ کرتے ہیں اور ڈنڈے سے کام لیتے ہیں۔جو کہ قطئی غلط رویہ ہے اس لیئے کہ دلا ئل کا جو اب دلا ئل سے آج کی دنیا میں پسند کیا جا تا ہے۔

تصویر ماخذ عدیل احمد

اب ضرورت اس بات کی ہےکہ جو بھی بچا ہواسر ما یہ مو جو د ہے اس کو یک جا کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر مزید تحقیق کی بھی۔تو جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں حضو رﷺ نے چا لیس سا ل تک صرف اور صرف خد مت ِ خلق کی یہ ہی وجہ تھی کہ تما م پسما ند ہ لو گ ان کے ہمنوا بن گئے۔وہ غلا مو ں کی حما یت کر تے بو ڑھو ں کا بو جھ ڈھو تے لو گو ں کے ما ل کی حفا ظت کر تے لہذا لو گ ان کی دیا نت کی وجہ سے اما نتیں ان کے پا س رکھتے۔اور اس کے لیئے جس چیز کی ضرو ر ت ہو تی ہے وہ بھی پر ور دگا ر نے ان کو بد رجہ اکملیت عطا کی تھی وہ تھا جذ بہ ایثا ر۔اس کا پہلا مظا ہر ہ جو ہمیں پیدا ئش کے فو را ً بعد نظر آتا ہے وہ یہ تھا کہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئی کو اپنے اوپر تر جیح،ما ئی حلیمہؓ  فر ما تی ہیں کہ میں اگر انہیں دو دھ پلا نا بھی چا ہتی وہ اس وقت تک نہ پیتے جب تک میرا بیٹا نہ پی لیتا اور یہ اس اکملیت کا پہلا ثبوت تھا۔جو نظر آتا ہے۔اس کے بعد بڑے ہو ئے تو ما ئی حلیمہؓ  کو کبھی انہو ں نے تنگ نہیں کیا نہ ضد نہ شرا رتیں بلکہ کو شش کر تے کہ ان کا ہا تھ بٹا د یں۔ اس کے بعد وہ دو ر آیا کہ وہ گھر سے با ہر تشر یف لے جا نے لگے، گو کہ یہ ان کی ڈیو ٹی نہ تھی کہ وہ کا م کر یں مگر وہ اپنے دو دھ شر یک بھا ئی بہنو ں کا ریو ڑ چرا نے میں ہا تھ بٹا تے۔اس کے بعد وہ مکہ آگئے۔ اور یہا ں غلا مو ں کے سا تھ ظلم دیکھا،ان کی وہ جو بھی مدد کر سکتے تھے کر نے لگے۔بو ڑھوں کا کا م کرتے ان کا بو جھ اٹھا لیتے۔جب جو انی کو پہو نچے تو انہو ں نے پو رے معا شرے کو بر ائی میں ملو ث پا یا۔لہذا انہو ں نے ایک کمیٹی بنا نے پر سردا روں کو را ضی کر لیا اور وہ پسا ند ہ اور مظلو مو ں کو امدا د فرا ہم کر نے لگے۔اور اس میں وہ ﷺسب سے زیادہ فعال تھے۔اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہا حا لانکہ وہ نبو تﷺ کا دعوہ کر چکنے کی وجہ سے وہ(ص) سب کے دشمن ہو چکے تھے۔اس دو ر میں بھی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے جس کو لو گو ں نے اور طر ح پیش کیا ہے وہ یہ تھا کہ ابو جہل نے ایک بدو سے اونٹ خریدا اور پھر نا دہند ہو گیا کسی نے حضو رﷺ کی طر ف اشا رہ کر کے کہا ان ﷺ کے پا س چلا جا وہ دلوا دیں گے۔ وہ حضورﷺ کے پا س آیا آپﷺ فورا ً اس کے سا تھ چلد دیئے اور جیسے ہی اس نے حضورﷺ کے ہمرا ہ اسے  آتادیکھا ابو جہل نے فو را ً اس کو رقم لا کر دیدی۔اس آدمی کا کہنا اور حضو ر (ص) کا جا نا اسی معا ہدہ کے تحت تھا۔لیکن جن کو اس معا ہدہ کا علم ہی نہیں ہے وہ دوسری تو ضیحات پیش کرتے ہیں۔اب آگے دیکھتے ہیں کہ ایک ضعیفہ مکہ چھو ڑ کر جا رہی تھی حضورﷺ اس کا سا مان اٹھا لیتے ہیں۔ اور اس کو کارواں تک پہو نچا دیتے ہیں۔حضو ﷺاس سے پو چھتے ہیں کہ اس ضعیفی میں وجہ سفر؟ تو کہتی بیٹا میں اپنا ایما ن بچا کر لے جا رہی ہو ں۔یہا ں ایک شخص ہے محمدﷺ وہ بڑا جا دو گر ہے ایسا الفا ظ کا جا دو چلا تا ہے کہ لو گ اس کے مطیع ہو جا تے ہیں تم بہت اچھے آدمی ہو اس سے بچ کر رہنا اور ہا ں بیٹا! تمہا را نا م کیا ہے؟ حضو ر فر ما تے ہیں محمدﷺ اور وہ ایما ن لے آتی ہے۔ دوسرا واقعہ سنئے کہ ایک بو ڑھی جب حضو رﷺ وہاں سے گز ر تے تو انتظا ر میں رہتی ہے اور ان کے اوپر روزانہ کو ڑا پھینکتی، ایک دن وہ نظر نہیں آئی ہے تو حضورﷺ اس کے دروازے پردستک فر ما تے ہیں۔ وہ پو چھتی ہے کو ن ہو کیسے آئے ہو تو حضو ر فر ما تے ہیں  میں محمد ﷺ ہوںآج تم نظر نہیں آئیں تو خیریت پو چھنے آگیا۔ اس نے بتا یا کہ میں بیما ر ہوں۔ اس وجہ سے نہ آسکی اور وہ شرمندہ ہوکرایما ن لے آتی ہے۔ حضورﷺ کے قتل کے منصو بے بن رہے ہیں مگر لو گ اپنی اما نتیں اب بھی ان (ص) ہی کے پا س رکھتے ہیں۔حضورﷺانتقام میں انہیں غصب نہیں فر ما تے ہیں۔ حتیٰ کہ جس را ت ہجرت فر ما تے ہیں ان اما نتو ں کو سپرد کر نے کے لیئے اپنے سب سے زیا دہ چہیتے چچا زاد حضرت علی  ؓ کو خطر ہ میں ڈا لد یتے ہیں۔جب کہ اِس کی تا ریخ میں ایک اور مثا ل بھی مو جو د تھی کہ بنی اسرا ئیل قبطیو ں کی اما نتیں سا تھ لے آئے تھے۔اس کے بعد جب ایک عرصہ کی جلا وطنی کے بعد بطو ر فا تح مکہ میں دا خل ہو تے ہیں۔دس ہزا ر جا نثا ر فو ج ہم رکا ب ہے۔ اب وہ لو گ لر ز رہے ہیں جنہو ں نے حضو رﷺ اور مسلما نو ں ؓ کی زند گی اجیرن کیئے رکھی حج اور عمرہ جس سے کسی کو بھی رو کنے کا رواج نہ تھا نہیں کر نے دیا۔ حضرت بلا ل ؓ کو ریت پر تپا نے وا لے غلا مو ں کو اس خطا پر مار نے وا لے کہ انہو ں نے اسلام کیو ں قبو ل کیا۔ حضورﷺ پر سا ت سا ل تک دا نہ پا نی بند کر نے وا لے سب خا ئف تھے اور پر یشا ن تھے کہ دیکھیں اب کیا ہو تا ہے کہ ایک منا دی کرنے والا اعلان کر تا ہے کہ جو حرم میں ہو وہ محفو ظ ہے، اپنے گھر میں بیٹھا رہے وہ محفو ظ ہے۔ جو حضورﷺ پر اور حضرت بلا ل ؓ پر ظلم ڈھا نے  والےابو سفیا ؓن کے گھر میں پنا ہ لے وہ بھی محفو ظ ہے۔ حضو رﷺ حرم میں دا خل ہو کر فر ما تے ہیں کہ آج کے رو ز کو ئی انتقام نہیں میں سب کو معا ف کر تا ہو ں۔لو گ جو ق در جو ق بیعت کے لیئے حا ضر ہو رہے ہیں ان میں ابو سفیا ن کی بیو ی ہندہ بھی ہے۔ جس نے حضورﷺ کے چچا کا کلیجہ نکا ل کر چبا یا تھا۔ وہ جا تے ہو ئے ڈرتی ہے منہ چھپا تی ہے مگر معا فی لے کر نکلتی ہے۔ عکرمہ بن ابو جہل کی بیو  ؓ ی آکر کہتی ہیں جو مسلمان ہیں اور مدینہ ہجرت کر چکی ہیں۔ کہ عکر مہ اور صفوان بن امیہ بھا گ گئے ہیں اگر آپ انہیں معا ف کر دیں۔ تو میں انہیں لے ‘آؤ ں حضورﷺ فر ما تے ہیں لے آؤ معا فی ہے۔ یہ دو نو ں وہ تھے جو کہ اس دن بھی جنگ سے بعض نہ آئے اور خا لدؓ بن ولید سے بھڑ گئے اور جب شکست کھا ئی تو فرار ہو گئے۔ عکر مہ بھا گ جا تا ہے مگر صفوان کو جہا ز نہیں ملتا ہے لہذا وہ انؓ کو مل جا تا ہے اس کو معا فی کا یقین نہیں آتا مگر ان کے یقین دلا نے پر چلد یتا ہے جب در با ر ِ رسا لت میں پہو نچتا ہے تو کہتا ہے کہ میں ایما ن دو ما ہ بعد لا ؤنگا اگر میرا دل چا ہا تو حضو رﷺ فر ما تے ہیں تمہیں دو ما ہ نہیں چا ر ما ہ کی مہلت ہے۔وہ ایک ما ہ کے بعد ہی غزوہ حنین میں مدد کر تا ہے اورایما ن لے آتا ہے۔ عکر مہ مدینہ میں آکر مشرف بہ اسلام ہو تا ہے۔ حبشی جس نے حضر ت حمزہ ؓ کودھو کے سے اپنے حر بہ سے شہید کیا تھا  چھپتا پھر رہا ہے کیو نکہ اب پو را عرب اسلام میں دا خل ہو چکا ہے اس وقت کو ئی اسے مشو رہ دیتا ہے کہ کمبخت رحمت سے نا امید کیو ں ہے؟ وہ تو رحمت ِ عا لمﷺ ہیں۔جا اور جا کر انکے  ﷺسا منے کلمہ پڑھے لے وہ جا تا ہے اس حا لت میں کہ کلمہ اس کی زبا ن پر ہے حضو رﷺ اس کو بھی معا ف کر دیتے ہیں۔اس ہدا یت  کےساتھ کہ آئندہ میرے سا منے نہیں آ نا کہ میں بھی انسا ن ہو ں اور میرے منہ سے مبا دا کو ئی غلط با ت نکل جا ئے۔ کیا ایسا انسان دنیا نے کو ئی اوردیکھا؟ اسی لیئے حق تعا لیٰ نے فر ما یا۔ وما ارسلٰنک الارحمت اللعا لمین (اے محمد ﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہا نو ں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔    

Dr. Shams Jilani is Canada based senior Urdu Columnist, Social worker & Islamic writer. A senior member of many multicultural advisory boards of City of Richmond, British Columbia, Canada. His more than four thousand columns on diverse issues has appeared in many international Urdu newspapers of UK, Pakistan, Canada & USA in addition to more than twenty two books

Website | + posts
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)